Skip to content

ہنزہ کے پانچ پابند سلاسل

May 22, 2012
Comrades behind bars

ہنزہ کے پانچ پابند سلاسل

بابا جان

بابا جان ان پانچ نوجوانوں میں سب سے زیادہ ملیٹنٹ نوجوان ہے۔اس کا تعلق پروگریسو یوتھ فرنٹ سے ہے اور یہ ہر تحریک اور احتجاج کا نہ صرف حصہ بنتا ہے بلکہ نوجوانوں میں اپنی بے باکی اور بلند حوصلہ کی وجہ سے بہت مقبول ہے۔ بابا جان نے عطا آباد کے مقم پر جھیل بننے کے بعد ہر مظاہرے کو منظم کرنے اور اسے کامیاب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بابا اور اس کے ساتھیوں نے ۲۰۱۰ء میں ملک کے کئی شہروں کا دورہ کیا اور سیاسی کارکنوں اور پریس کانفرنسز کے ذریعہ عطا آباد جھیل کے مسئلہ کو ملک گیر سطح پر اٹھایا۔ اس کی پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید دراصل گلگت بلتستان کی حکومت کو سخت ناپسند ہے۔ اور بابا جان کی موبیلائیزیشن اور قائدانہ صلاحیتوں سے ناکام پیپلزپارٹی کی حکومت خوفزدہ ہو کر اسے سزا دے رہی ہے۔ کمال کی بات ہے کہ جس پارٹی کا صدر اور سزا یافتہ وزیرِ اعظم ہر تقریر میں کہتے ہیں کہ کوئی سیاسی کارکن قید نہیں وہ در اصل دہشت گردی ایکٹ کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں۔ جمہوریت ان کے نزدیک طبقہ اعلی کا انتخابات کے ذریعہ منتخب ہونے کا عمل ہے، مزاحمت کرنے والوں کو یہ دہشت گرد ہی سمجھتے ہیں۔بابا جان پر امن جدوجہد کا حامی ہے، یہ تشدد کی وکالت نہیں کرتا۔

افتخار حسین

٣٣ سالہ افتخار حسین قراقرم نیشنل موومنٹ کا کارکن ہے اور قوم پرست سیاست سے وابستہ ہے- یہ ایک نڈر مگر کم گو اور شہرت سے دور بھاگنے والا نوجوان ہے- اس کا تعلق علی آباد ہنزہ سے ہے- افتخار پر الزام ہے کہ اس نے عطا آباد پر پولیس کے ہاتھوں قتل عام کے بعد نوجوانوں کے ساتھ تھانے پر حملہ کرایا اور ہتھیاروں کو لوٹ کر نوجوانوں میں تقسیم کیا- گرفتاری کے بعد پولیس کی کوشش تھی کہ افتخار تھانے کے حملے میں ملوث افراد کے نام پر عام افراد کو ملوث کردے- لیکن افتخار نے تمام تر ٹارچر سہا لیکن کسی ساتھی کا نام دینے سے انکار کرتا رہا- یہی وجہ ہے کے تفتیش کے نام پر افتخار پر سب سے زیادہ تشدد کیا گیا- اسکے جسم کے نازک حصّوں پر جلتی ہوئی موم ڈالی گئی اور مجبور کیا جاتا رہا کہ وہ عطا آباد میں پولیس فائیرنگ سے ہلاک ہونے والوں کے قتل عام کا الزام بھی اپنے سر لے لے- افتخار نے عطا آباد متاثرین کے مسلے پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ اس مسلے کو اجاگر کرنے کی خاطر تمام تر ٹارچر سہا- جب اس سے ٹارچر کے بارے میں ملنے والے پوچھتے ہیں تو ہنس کر بتاتا ہے ‘ یہ سب کچھ تو ہوتا ہے کامریڈ، ہمیں تو اپنا کام کرنا ہے-‘

عامر خان

٣٠ سالہ عامر خان کا تعلق کریم آباد ہنزہ سے ہے- یہ گریجویٹ ہے – یہ جذباتی اور نڈر نوجوان ہے- گرفتاری کے بعد اسے بھی سنگین تشدد کا نشانہ بنایا گیا- دل کا عارضہ ہونے کے باوجود اسے ضمانت پر رہا نہیں کیا جا رہا-

امیر علی

٣٨ سالہ امیر علی علی آباد ہنزہ سے تعلق رکھتا ہے- یہ بھی گریجویٹ ہے- نہایت ہی ایماندار اور دلیر نوجوان سمجھا جاتا ہے- اسے  جھوٹے کیس میں ملوث کرکے گرفتار کروایا  گیا ہے- اس پر بھی سنگین تشدد کیا گیا ہے- لیکن اس نوجوان نے بھی دیگر کی طرح بڑی بہادری سے تشدد کا مقابلہ کیا ہے- بابا جان بتاتے ہیں کہ علی کا سیاسی شعور تیزی سے بلند ہورہا ہے اور یہ مستقبل میں نوجوانوں کی بھرپور قیادت کرے گا-

راشد منہاس

٣٧ سالہ راشد منہاس، علی آباد ہنزہ سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان بھی گریجویٹ ہے اور یہ بھی دلیر اور ایماندار ہے- اسکا کسی تنظیم سے تعلق نہیں ہے لیکن یہ سیاسی طور پر پختہ ہوتا جارہا ہے- یہ ہر مسلے میں پیش پیش ہونے والے لوگوں میں شمار کیا جاتا ہے- راشد کا ٧٢  سالہ بوڑھا والد بھی تھانہ علی آباد کے باہر گرفتار ہوا تھا اور ایک ہفتہ اسے بھی قید میں رکھا گیا-

قید و بندش نے ہنزہ کے ان پانچ سیاسی کارکنوں کو کمزور کرنے کے بجایے طاقتور بنایا ہے- آج یہ پورے علاقے کے نوجوانوں کے لئے ہمّت اور بہادری کی مثال ہیں- ہمیں مطالبہ کرنا چاہئے کہ ان نوجوانوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے-

Source: Socialist, June 2012, Article on the Hunza Five with individual profiles

No comments yet

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: