Skip to content

BBC Urdu: ’بابا جان پر مبینہ تشدد پر تشویش کا اظہار‘

May 14, 2012

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں عطا آباد جھیل کے متاثرین کے لیےآواز اٹھانے والے بائیں بازو کے رہنما بابا جان اور ان کے ساتھیوں پر قید کے دوران مبینہ تشدد کے الزامات سامنے آنے کے بعد ملکی اور غیر ملکی انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔Hunza Lake

دوسری جانب گلگت بلتستان کے وزیر احمد علی اختر نے بابا جان پر تشدد کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت گلگت جیل میں کوئی نو ماہ سے قید بابا جان کی جماعت پاکستان لیبر پارٹی نے بھی ان کی اور ان کے چار ساتھیوں کی رہائی کے لیے انٹرنیٹ پر ایک پٹیشن جاری کی ہے، جس پر جماعت کے مطابق ممتاز امریکی مصنف اور دانشور پروفیسر نوم چومسکی اور پاکستانی نژاد برطانوی دانشور طارق علی سمیت لگ بھگ تین سو افراد اور تنظیموں نے اب تک دستخط کیے ہیں۔

دستخط کرنے والوں میں بھارت، امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کی بعض محنت کش اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے علاوہ سیاسی و سماجی جماعتیں بھی ہیں۔

اس آن لائن پٹیشن میں الزام لگایا گیا ہے کہ’پاکستانی پولیس اور سکیورٹی فورسز نے بابا جان اور ان کے بعض ساتھیوں کو قید کے دوران اب تک دو مرتبہ تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ تازہ ترین واقعہ گزشتہ ماہ اٹھائیس اپریل کو پیش آیا جس کے بعد ’بابا جان کی زندگی خطرے میں ہے۔‘

لیبر پارٹی کے رہنما فاروق طارق نے اس واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’فرنٹیر کانسٹیبلری یعنی ایف سی اور پولیس نے انہیں جیل کی کوٹھری سے نکال کر کسی اور جگہ لے گئے جہاں چھ دن تک ان پر تشدد کیا گیا۔ ان کی انگلی ٹوٹی ہوئی ہے۔ان کے سارے جسم پر نشان ہیں۔ ان کے سر کے بال مونڈھ دیے گیے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ عدالت کی مداخلت پر بارہ دن بعد ان کا طعبی معائنہ کرایا گیا۔

حقوق انسانی کمیشن آف پاکستان نے بھی اپنے ایک بیان میں بابا جان اور ان کے ساتھیوں پر مبینہ تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کمیشن کی سربراہ زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ’اس کی تحقیقات کرنی چاہیے کہ کس نے تشدد کیا ہے اور کیسے بابا جان کی انگلیاں بھی ٹوٹ گئی ہیں۔ جنہوں نے تشدد کیا ہے ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔‘

گلگت بلتستان کے وزیر احمد علی اختر نے بابا جان پر مبینہ تشدد پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے اس تاثر کو رد کیا کہ جیل میں بابا جان کی زندگی کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق ہے۔

’ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ تو درندگی ہے کہ انہیں ہلاک کیا جائے گا۔ بابا جان تو اس علاقے کے باشندے ہیں، وہ یہاں کے شہری ہیں۔ اگر کوئی فورسز ان پر تشدد کریں اور انہیں خطرہ محسوس ہو تو وہ ایسا کہہ سکتے ہیں کہ انہیں قتل کیا جائے گا، لیکن بابا جان کو دوران قید ہلاک کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ سال گیارہ اگست کو ہنزہ کے علاقے عطا آباد جھیل متاثرین کے مظاہرے پر مبینہ پولیس فائرنگ سے ایک بائیس سال کا نوجوان افضل بیگ اور ان کے والد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد مظاہرین نے مقامی پولیس سٹیشن کو نذر آتش کردیا تھا۔

بابا جان اور ان کے ساتھی، جو اس وقت گلگت جیل میں قید ہیں، ان مظاہروں میں شریک تھے۔

ان مظاہروں کے کچھ دن بعد بابا جان سمیت کئی افراد کو انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا لیکن بابا جان اور ان کے چار ساتھیوں کے علاوہ دیگر تمام افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

جنوری دو ہزار نو میں ہنزہ کے علاقے عطا آباد میں پہاڑی تودہ گرنے کی وجہ سے دریائے ہنزہ کا بہاؤ رک گیا تھا جس کے نتیجے میں جھیل بن گئی تھی اور سینکڑوں خاندان بے گھر ہوگئے تھے۔

انٹرنیٹ پر پاکستان کی لیبر پارٹی کی اس پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ بابا جان دہشت گرد نہیں بلکہ وہ گلگت بلتستان کے ایک قابل احترام سیاسی کارکن ہیں جنہیں مظلوموں کی حمایت کرنے پر قید کیا گیا ہے۔

اس پٹیشن میں حکومت پاکستان پر یہ زور دیا گیا ہے کہ وہ بابا جان اور ان کے ساتھیوں کو سیاسی قیدی تصور کرے اور ساتھ ہی ان کے خلاف مقدمات واپس لینے اور ان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

لیکن گلگت بلستان کی حکومت کے وزیر احمد علی اختر حکومتی طرز عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان (بابا جان ) کی اشتعال انگیز تقریر سے دو افراد کی جانیں ضائع ہوئیں۔

ذوالفقار علی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

Source: BBC Urdu Online

No comments yet

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: